حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ملتِ جعفریہ پاکستان نے حکومت پاکستان کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام نہاد ’’بورڈ آف پیس‘‘ میں شمولیت کے فیصلے کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اسے غیر آئینی، غیر قانونی، قومی مفادات کے منافی اور عوامی خواہشات کے سراسر خلاف قرار دیا ہے۔
شیعہ جماعتوں کی مشترکہ پریس کانفرنس میں شیعہ علماء کونسل کے مرکزی رہنما علامہ سید ناظر عباس تقوی، مدارس امامیہ کے نمائندے بزرگ عالم دین علامہ شیخ حسن صلاح الدین، مجلس وحدت مسلمین کراچی کے صدر علامہ شیخ محمد صادق جعفری، آل پاکستان شیعہ ایکشن کمیٹی کے مرکزی محرک علامہ مرزا یوسف حسین مجلس ذاکرین امامیہ کے سربراہ علامہ نثار قلندری، آئی ایس او کے رہنما حسن رضا، مرکزی تنظیم عزاداری کے سربراہ ایس ایم نقی، پاک محرم ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری سرور علی، امامیہ آرگنائزیشن پاکستان کراچی کے رہنما احسن مہدی، ہئیت آئمہ مساجد و علماء امامیہ کے رہنما مولانا عقیل موسیٰ اور تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے رہنما مولانا باقر شجائی شامل تھے۔

مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ ٹرمپ بورڈ آف پیس درحقیقت عالمی امن نہیں، بلکہ امریکی و اسرائیلی مفادات کے تحفظ کا ایک منظم منصوبہ ہے، جس کا مقصد اقوامِ متحدہ جیسے عالمی اداروں کو کمزور کرنا اور طاقت کے زور پر عالمی سیاست کو کنٹرول کرنا ہے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ غزہ امن بورڈ کے نام پر دراصل اسرائیل کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے۔
علمائے کرام اور قائدین نے واضح کیا کہ ’’طوفان الاقصیٰ‘‘ کے بعد اسرائیل دو سال گزرنے کے باوجود حماس کو شکست دینے میں ناکام رہا ہے، جس کے بعد اب اسلامی ممالک کی افواج کے ذریعے مزاحمتی قوتوں کو غیر مسلح کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ یہ اقدام آزاد فلسطینی ریاست کے تصور کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی کوشش ہے۔
ملتِ جعفریہ پاکستان نے اعلان کیا کہ وہ حماس اور فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور 60 ہزار سے زائد فلسطینی شہداء کے خون کا سودا کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ اسلامی افواج کو حماس یا کسی بھی مزاحمتی گروہ کے خلاف استعمال کرنا امتِ مسلمہ کو آپس میں لڑانے کی کھلی سازش ہے۔

پریس کانفرنس میں دوٹوک الفاظ میں کہا گیا کہ پاک فوج کو کسی بھی صورت غزہ یا کسی مزاحمتی تحریک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ پاک فوج پاکستان اور اسلام کی محافظ ہے، اسے امریکی یا اسرائیلی ایجنڈے کے لیے استعمال کرنا ناقابلِ قبول ہے۔
شرکاء نے نام نہاد بورڈ آف پیس کے کرداروں کو مسلمانوں کے خون میں ڈوبا ہوا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے عناصر کی قیادت میں امن کی بات محض فریب ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے بورڈ میں شمولیت کے لیے کروڑوں ڈالر فیس کا مطالبہ کھلی بلیک میلنگ اور جدید نوآبادیاتی سیاست کی بدترین مثال ہے۔
علمائے کرام نے واضح کیا کہ پاکستانی ٹیکس دہندگان کا پیسہ اسرائیل یا اس کے سرپرست منصوبوں پر ہرگز خرچ نہیں کیا جا سکتا اور اسرائیل سے کسی بھی سطح پر تعلقات نظریۂ پاکستان سے غداری کے مترادف ہیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی بنیاد رکھ کر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا واضح رخ متعین کر دیا تھا۔

پریس کانفرنس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رہبرِ انقلاب اسلامی آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے خلاف اشتعال انگیز بیانات، توہین اور قتل کی دھمکیوں کی شدید مذمت کی گئی۔
مقررین نے خبردار کیا کہ اگر آیت الله العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای کو نقصان پہنچانے کی کوئی کوشش کی گئی تو اس کے پورے خطے میں سنگین اور دور رس نتائج برآمد ہوں گے، جس کی مکمل ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوگی۔
ملتِ جعفریہ پاکستان نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ نام نہاد ٹرمپ بورڈ آف پیس سے فوری لاتعلقی کا اعلان کیا جائے! پاکستان کی خودمختار اور آزاد خارجہ پالیسی برقرار رکھی جائے! پاکستانی وسائل، افواج اور سرمایہ اسرائیل نواز منصوبوں کے لیے استعمال نہ کیے جائیں! فلسطینی عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت کو ریاستی پالیسی بنایا جائے! آیت الله العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای کو دی جانے والی دھمکیوں پر امریکی سفیر کو طلب کر کے سخت احتجاج ریکارڈ کروایا جائے!
پریس کانفرنس کے اختتام پر ملتِ جعفریہ پاکستان نے قوم، سیاسی قیادت اور ریاستی اداروں سے اپیل کی کہ وہ بانیٔ پاکستان کے اصولی مؤقف، عوامی جذبات اور امتِ مسلمہ کے اجتماعی مفاد کو ہر عالمی دباؤ پر ترجیح دیں۔










آپ کا تبصرہ